”بدقسمتی سے ہماری زندگی سے جدوجہد نکل گئی اور ہم دعاؤں کی طرف راغب ہوگئے حتیٰ کہ ہم چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لئے بھی عملی جدوجہد اور کوشش کے بجائے اوارد و وظائف اور دعاؤں کا سہارا لينے لگے۔ ہمارا يہ رويہ اس بات کا مظہر ہے کہ ہم نے کلمہ تو پڑھ ليا ليکن اس کلمے کو نہ سمجھا، ہم نے رب کو رازق تو کہا مگر دل سے نہيں جانا کہ وہ رازق ہے ہم نے رب کو قادر مطلق تو کہا ليکن اس کو کبھی قادر مطلق سمجھا نہيں-“
”ميں آج پھر عرض کرتا ہوں کہ مت جايئے کسی کے پاس دعا کرانے، رب آپ کا ہے وہ آپ کی دعائيں ضرور سنے گا بس اس کے ساتھتوکل کا رشتہ قائم کرليجئے اور جان ليجئے کہ رب تعالیٰ آپ کا ہے رب کے سارے خزانے آپ کے ہيں رب کی کائنات آپ کی ہے کيونکہ ان خزانوں اور کائنات کا مالک آپ کا اپنا رب ہے-“
جب دل ميں پختہ ايمان اور مضبوط اساس کے ساتھ بندہ رب سے دعا مانگتا ہے تو اس ميں وہ اعتماد پيدا ہوتا ہے جسے مان کہتے ہيں يہ مان کہ ميرا رب ميری دعا يقينا قبول کرے گا۔ اس مان کے ساتھ مانگی جانے والی دعا فوراً قبول ہو جاتی ہے-“
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں