ہفتہ، 19 اکتوبر، 2013

زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں


زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں

اور کیا جُرم ہے پتا ہی نہیں
سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں
میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں
زندگی! موت تیری منزل ہے
دُوسرا کوئی راستا ہی نہیں
جس کے کارن فساد ہوتے ہیں

اُس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں
اپنی رچناؤں میں وہ زندہ ہے
نُورؔ! سنسار سے گیا ہی نہیں

کرشن بہاری نُورؔ لکھنوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں